فتاوى

ديني مسائل

سوال۔ اگر کوئی عورت خلع لے اور میاں بیوی الگ ہو جائے ۔ پہر اگر رجوع کرنا ہو تو اسلامی کیا صورت ہے

الجواب بعون الملک الوھاب : خلع لی ہوئی عورت سے شرعا رجوع ممکن ہے، اس کی صورت یہ ہے،

عورت دوبارہ شادی کے لئے رضامند ہو،

دونوں کا عقد جدید ہو،  یہ عقد عورت کی عدت کے ایام میں بھی ہو سکتا ہے، ابن رشد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "الجمهور أجمعوا على أن له ان يتزوجها برضاها في العدة.

ولی اوردو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے.

 شوہرنیا مہر بیوی کو دےابن شہاب رحمہ اللہ یہ کہتے تھے کہ جتنا مہر بیوی سے خلع میں واپس لیا ہے، اس سے کم پر دوبارہ شادی نہ کرے، حالانکہ شرعا ایسا کچھ ضروری نہیں بلکہ جتنے پر دونوں اتفاق کرلیں شادی ممکن ہے.

اگر صرف زبانی خلع ہوا ہے تو ولی کو کوئی حق نہیں کہ وہ اپنی بچی کو شوہر سے دور کرے البتہ اگر بالفعل خلع واقع ہوا ہے تو بچی کے لئے ولی کو بتاکر رجوع کرنا ضروری ہے، اب اگر اطلاع کے بعد ولی ظلما اسے شوہر کے پاس جانے اور اس سے شادی کرنے سے روکے تو بچی شرعی محمکے اور قاضی سے رجوع کرےگی، تاکہ قاضی ولی کی اس جبری وناحق ولایت کو ختم کرکے خود اس بچی کی شادی کروادے.اللہ کا فرمان ہے :فلا تعضلوهن ان ينكحن ازواجهن اذا تراضوا بينهم بالمعروف...

والله أعلم بالصواب

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 سوال :شیخ یہ تصویر  ایک بھائی نے پوسٹ کی ھے اس میں جو امور بدعت کے تعلق سے ہیں اس کی وضاحت درکار ہے اور بدعت کی شرعی اصطلاح اور وضاحت درکار ھے اسی طرح کیا جمعہ مبارک کہنا یہ بدعت میں شمار ہوگا یا مباح ہے اور مباح کی تعریف کیا ہے

 جزاك الله خيرا..

وضاحت : اس مختصر پوسٹ میں تصویر میں مذکور سارے ہی امور پرفردا فردا اس کے بدعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق تفصیلی روشنی ڈالنا ممکن نہیں البتہ انہیں قاعدوں میں سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے.

الجواب بعون الله تعالى : لغوی اعتبار سے ہر بلامثال سابق پیدا اور ایجاد کی گئی چیز کو بدعت کہا جاتا ہے،

 شریعت میں کسی ایسے قول، فعل، یا عقیدے کو بدعت کہاجاتا ہے، جسے اس کا کرنے والا دین وعبادت سمجھ کر کرتا ہو، حالانکہ اس کی کتاب وسنت میں کوئی اصل نہ موجود ہو.... ابتداع اور ایجاد دو طرح کی ہوتی ہیں، عادات اور معاملات دنیا میں ایجاد،یہ  نہ صرف جائز بلکہ مرغوب فیہ ہے،

اس لئے کہ معاملات میں اصل حلت اور عادات میں اصل اباحت ہے، شریعت کا قاعدہ ہے :الأصل فی المعاملات الحل والأصل فی العادات الإباحة ".

اور مذکورہ بالا تصویر میں ذکر کردہ اکثر امور کا تعلق اسی ایجاد اور اختراع سے ہے.جیسے مسجد میں اے سی، پنکھا، موٹر سائیکل، اور بائیک وغیرہ امور.

  کچھ امور ایسے ہیں جن کی اصل ثابت ہے، جیسے جمع قرآن، تدوین حدیث، بکثرت عمرہ اور طواف کرنا،وغیرہ

اورجہاں تک علمی تقسیمات، مسجد کے مینار، اور قرآن کے اعراب وغیرہ کی بات ہے تو یہ مصلحت مرسلہ کی بنیاد پر انجام دئیے گئے امور ہیں، اور شریعت کا قاعدہ ہے "الشريعة جاءت لتحصيل المصالح وتكثيرها ودرء المفاسد وتقليلها. نیز ان کا حکم ان وسائل کا ہےجو کتاب وسنت کی خدمت کرتے ہیں.اور قاعدہ یہ ہے کہ"الوسيلة لهاحكم الموسل اليه" چنانچہ جائز کام کا وسیلہ جائز جبکہ حرام کا وسیلہ حرام ہوگادین اور عبادات میں ایجاد واختراع... یہ ممنوع اور حرام ہے،

اس لئے کہ عبادات میں اصل ممانعت، تحریم اور حظر ہے، توقیف ہے، اور شریعت کا قاعدہ ہے کہ" الأصل في العبادات التوقيف والأصل في الدين المنع " اسی لئے آپ صلی اللہ نے فرمایا ہے کہ من أحدث في أمرنا هذا ماليس منه فهو رد.

مذکورہ بالا تصویر میں سے کچھ امور بدعت ہیں جیسے، گھروں اور عمارتوں کی دیواروں پر قرآن کی نقاشی کرنا،مساجد کی مبالغہ آمیز نقاشی، اس کے محراب کی ملفت نظر سجاوٹ، شبینہ کا اہتمام، مجالس ختم قرآن کا انعقاد، وغیرہ،